روایتی انشورنس کا کیا حکم ہے؟
روایتی تجارتی انشورنس میں سود اور غرر (شدید غیر یقینی) پایا جاتا ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے۔ شرعی تعاونی متبادل (تکافل) جائز ہیں۔ حکومت کی طرف سے لازمی انشورنس صرف بقدرِ ضر…
Read full answerAsk your religious questions and search answers verified by our muftis
This library presents general rulings according to the Hanafi (Deobandi) school, summarised for learning. For your specific situation, please submit your question below or consult the Jamia’s Dar-ul-Ifta directly.
روایتی تجارتی انشورنس میں سود اور غرر (شدید غیر یقینی) پایا جاتا ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے۔ شرعی تعاونی متبادل (تکافل) جائز ہیں۔ حکومت کی طرف سے لازمی انشورنس صرف بقدرِ ضر…
Read full answerجی ہاں، بشرطیکہ زیادہ قیمت عقد کے وقت طے اور مقرر ہو۔ کسی چیز کو ادھار پر اس کی نقد قیمت سے زیادہ پر بیچنا جائز ہے۔ ناجائز یہ ہے کہ تاخیر کی صورت میں جرمانے کے طور پر قی…
Read full answerجن کاموں میں براہِ راست سودی معاملات لکھنا، حساب کرنا یا گواہ بننا ہو، وہ ناجائز ہیں کیونکہ یہ سود پر تعاون ہے۔ بعض بالکل غیر متعلق شعبے جائز ہو سکتے ہیں؛ اپنی مخصوص ملا…
Read full answerنہیں۔ سود (ربا) قرآن و سنت میں قطعی حرام ہے۔ روایتی بینکاری کے ذریعے سود لینا یا دینا ناجائز ہے۔ اگر سود اکاؤنٹ میں آ جائے تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے فقراء پر خرچ کر دین…
Read full answer